ڈیرا ڈنڈا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سامان، ساز و سامان، بوریا بستر، ٹنڈیرا۔ "اگرچہ یہ اردو ابھی پیدا نہیں ہوئی مگر اس کا پیش خیمہ ڈیرا ڈنڈا یورپ میں آ گیا ہے۔"      ( ١٩١٥ء، مرقع زبان و بیان دہلی، ١٥ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اسما 'ڈیرا' کے ساتھ 'ڈنڈا' لگانے سے مرکب 'ڈیرا ڈنڈا' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٥ء کو "مرقع زبان و بیان دہلی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سامان، ساز و سامان، بوریا بستر، ٹنڈیرا۔ "اگرچہ یہ اردو ابھی پیدا نہیں ہوئی مگر اس کا پیش خیمہ ڈیرا ڈنڈا یورپ میں آ گیا ہے۔"      ( ١٩١٥ء، مرقع زبان و بیان دہلی، ١٥ )

جنس: مذکر